افغانستان سے معاملات ٹھیک ہوتے نظر نہیں آرہے، وزیر دفاع نے دو ٹوک بات کہہ دی
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے نوٹیفکیشن کے بعد آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی ڈی ایف) کی مدت ملازمت ایک ساتھ 27 نومبر 2025 سے شروع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے تمام سمریاں وزارت دفاع کے ذریعے بھیجی جائیں گی اور ان تعیناتیوں کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات پر وزیر دفاع کا بیان
افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد افغانستان کے ساتھ معاملات بہتر ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے افغانستان کے طالبان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ تحریری طور پر یہ ضمانت دیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف کبھی استعمال نہیں ہوگی۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں حالیہ حملے میں افغانستان کے ملوث ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ گزشتہ دو حملوں میں 100 فیصد افغان عناصر ملوث تھے۔
انہوں نے افغانستان کو ایک "دیوالیہ” ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کوئی عدالتی اسٹرکچر نہیں ہے اور طالبان کی حکومت میں صرف دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بن چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرتا رہا تو پاکستان کی جانب سے تجارت سمیت دیگر معاملات پر مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
ججز کے استعفوں پر وزیر دفاع کا ردعمل
ججز کے استعفوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ استعفیٰ دینے والے ججز دراصل اپنی مدت مکمل کرنے اور پینشن کے لیے استعفے دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ججز کے پاس کوئی اصولی بات ہے تو انہیں اس پر عمل کر کے استعفیٰ دینا چاہیے اور نہ کہ مراعات کے لیے مدت پوری کرنا چاہیے۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے عدلیہ کے اختیارات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی اور ججز کی تعیناتی کا عمل وہی رہ گا جو پہلے تھا۔
افغان بارڈر اور تجارت
افغانستان کے ساتھ تجارت کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ جب تک افغان بارڈر پر حملے جاری ہیں، پاکستان کو تجارت کھولنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اسمگلنگ کو بھی روکنے میں مدد ملے گی اور ڈالرز کی غیر قانونی اسمگلنگ بھی بند ہو جائے گی۔
یہ بیانات خواجہ آصف نے ایک ٹی وی پروگرام "سینٹر اسٹیج” میں دیے، جہاں انہوں نے پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر تفصیل سے بات کی۔





