سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کے تمام علاقوں میں گزشتہ روز نمازِ استسقا ادا کی گئی، جس کا مقصد اللہ تعالیٰ سے بارش کے لیے دعا کرنا تھا۔ یہ نماز سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق خشک سالی اور بارش میں تاخیر کے دوران ادا کی جاتی ہے تاکہ رحمتِ الٰہی نازل ہو۔
رپورٹس کے مطابق خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر ملک کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں موجود مساجد اور استسقا کے لیے مخصوص مقامات پر لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ اس سے قبل مفتی اعظم نے بھی عوام سے اپیل کی تھی کہ بارش کے لیے نمازِ استسقا ادا کریں۔
اسلام میں نمازِ استسقا دو رکعت پر مشتمل ایک خاص عبادت ہے جس میں اللہ سے معافی، توبہ اور بارش کی دعا کی جاتی ہے۔ عام طور پر امام خطبہ میں توبہ، حقوق العباد کی ادائیگی اور اجتماعی دعا کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
سعودی عرب کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی خشک سالی اور غیر معمولی کم بارش کے باعث اس عبادت میں شریک ہو رہے ہیں:
شام
شام کی وزارتِ اوقاف کی ہدایت پر پورے ملک میں آج نمازِ استسقا ادا کی جائے گی۔ وزارت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ نماز سے قبل تین روز روزہ رکھیں، ضائع شدہ حقوق ادا کریں، اجتماعی توبہ کریں اور نماز میں بھرپور شرکت کریں۔
قطر
قطر میں بھی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی اپیل پر گزشتہ روز نماز استسقا ادا کی گئی۔ امیر قطر نے دوحہ کی لوسیل مسجد میں ہزاروں نمازیوں کے ساتھ اس نماز کی قیادت کی۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اس وقت بدترین خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث کئی خطوں میں بارشیں معمول سے کہیں کم ہوئی ہیں۔






