واشنگٹن/جوہانسبرگ (ویب ڈیسک) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حکومت کے کسی بھی عہدیدار کو اس سال جنوبی افریقہ میں ہونے والی جی20 سمٹ میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ "ٹروتھ سوشل” پر پوسٹ میں کہا کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام کسانوں کو قتل اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی زمینیں غیر قانونی طور پر ضبط کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، کوئی امریکی عہدیدار اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔
اس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس کو امریکی نمائندگی کے لیے بھیجا گیا تھا، لیکن اب وہ بھی اس سمٹ میں شریک نہیں ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ 2026 میں میامی، فلوریڈا میں جی20 کی میزبانی کے منتظر ہیں۔
جنوبی افریقہ کے وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے الزامات کو "افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سمٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے پرعزم ہیں۔ وزارت نے وضاحت کی کہ افریکنرز کو صرف سفید فام کمیونٹی کے طور پر بیان کرنا تاریخی طور پر غلط ہے اور یہ دعویٰ کہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے، حقائق سے بے بنیاد ہے۔
صدر سیرل رامافوسا نے بھی ٹرمپ کو یقین دہانی کرائی کہ افریکنرز کے خلاف الزامات کی کوئی بنیاد نہیں۔ جنوبی افریقہ کے حکام نے کہا کہ سفید فام افراد کی معیار زندگی ملک کے سیاہ فام باشندوں کے مقابلے میں کافی بہتر ہے اور اپارتھائڈ کے خاتمے کے بعد یہ صورتحال برقرار ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس سال کے آغاز میں ہونے والے ایک جی20 اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا، کیونکہ اس اجلاس کے ایجنڈے میں تنوع، شمولیت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے موضوعات شامل تھے۔






