واشنگٹن (ویب ڈیسک) — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بڑی قانونی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جب ایک وفاقی عدالت نے قرار دیا کہ انہوں نے پورٹ لینڈ، اوریگون میں نیشنل گارڈ کے فوجیوں کی تعیناتی غیر قانونی طور پر کی تھی۔
یہ فیصلہ امریکی ڈسٹرکٹ جج کیرن امیرگٹ نے جمعہ کے روز سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس فوج کو اندرونِ ملک احتجاج روکنے کے لیے استعمال کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔
جج کے مطابق، پورٹ لینڈ میں ایسی کوئی “بغاوت” یا ہنگامی صورتحال نہیں تھی جس کے تحت وفاقی حکومت کو فوجی طاقت کے استعمال کا جواز ملتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ احتجاج کے دوران اگرچہ معمولی جھڑپیں ضرور ہوئیں، لیکن وہ اتنی سنگین نہیں تھیں کہ نیشنل گارڈ کی تعیناتی ناگزیر ہو۔
یہ عدالتی فیصلہ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی و قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ ماضی میں ڈیماکریٹک قیادت والے شہروں جیسے لاس اینجلس، شکاگو اور واشنگٹن میں بھی اسی طرز کی فوجی کارروائیاں کرنے کے حامی تھے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ایبیگیل جیکسن نے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے وفاقی افسران کے تحفظ کے لیے اپنے اختیارات کے تحت درست اقدام کیا تھا، اور انہیں امید ہے کہ اعلیٰ عدالت میں فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔
دوسری جانب، اوریگون کی اٹارنی جنرل کے دفتر نے موقف اختیار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پرامن احتجاج کو “تشدد” کے طور پر پیش کر کے فوجی مداخلت کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی۔






