وفاقی کابینہ سے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ آج منظور ہونے کا امکان — وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس طلب کر لیا
اسلام آباد (بیورو رپورٹ): وفاقی کابینہ سے ستائیسویں آئینی ترمیم کے مسودے کی آج منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں کابینہ کو آئینی ترمیم کے مسودے پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی، جس کے بعد وفاقی کابینہ اس مسودے کی منظوری دے گی۔ امکان ہے کہ ترمیمی بل آج ہی سینیٹ اجلاس میں بھی پیش کر دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے یقین دلایا کہ ایم کیو ایم کا بلدیاتی مسودہ 27ویں ترمیم میں شامل کیا جائے گا، جس کے بعد ایم کیو ایم نے بھی ترمیم کی حمایت کر دی۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ
انتخابات کے بعد بننے والی مقامی حکومتوں کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات دیے جائیں،
مقامی حکومتوں کی مدت چار سال ہو،
اور نئے انتخابات نگراں سیٹ اپ کے تحت کرائے جائیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے استحکامِ پاکستان پارٹی، ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے وفود نے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں اور آئینی ترمیم پر تبادلۂ خیال کیا۔
تاہم، پیپلزپارٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کی تجویز کے ایک کے سوا تمام نکات مسترد کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ترمیم سے متعلق مشاورت کی گئی۔ اجلاس کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ:
“حکومت نے آرٹیکل 243 میں تبدیلی کا سوچا ہے، اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے صرف اسی نکتے کی حمایت کی ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ:
“پیپلز پارٹی صوبائی شیئر سے متعلق کسی بھی شق کی حمایت نہیں کرے گی۔ این ایف سی فارمولے میں تبدیلی سمیت ترمیم کی باقی تجاویز کو ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق، حکومتی اتحاد کی یہ ترمیم بلدیاتی نظام، صوبائی خودمختاری، اور وفاقی اختیارات سے متعلق کئی اہم تبدیلیاں متعارف کروا سکتی ہے، تاہم پیپلزپارٹی کی مخالفت کے باعث پارلیمنٹ میں بل کی منظوری چیلنج بن سکتی ہے۔





