فیصل واوڈا کوئی پیغام نہیں لائے، 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ آئے گا تو بات کریں گے، مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد — جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ جب تک براہِ راست سامنے نہیں آئے گا ان کی جماعت اس بارے میں کوئی رائے یا موقف نہیں دے گی، اور قیاس آرائیوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ بات انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ سینیٹر فیصل واوڈا ان کے پاس کوئی پیغام لے کر نہیں آئے تھے بلکہ معمول کی ملاقات کے لیے آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں اور ملنا جلنا جاری رہنا چاہیے۔ "جب ترمیم کا مسودہ نہیں آیا تو ہم نکات پر بات نہیں کرتے،” انہوں نے کہا اور ہوا میں باتیں پھیلانے سے خبردار کیا۔
انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سامنے آنے والے حوالہ جات یا پرچے کی بھی جانب داری یا مخالفت سے قبل مواد کے درست اور غلط نکات دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب سینیٹر فیصل واوڈا نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان سیاست کے بڑے نام ہیں اور ان سے ان کا پرانا تعلق ہے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ صرف ملاقات کے لیے آئے ہیں اور اس بات میں کوئی مسئلہ نہیں کہ ملاقات سب کے سامنے ہوئی۔ "آج کی ملاقات میں مولانا صاحب نے کوئی اعتراضات عائد نہیں کیے،” انہوں نے کہا۔
فیصل واوڈا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترمیم میں "ٹرانسفر پوسٹنگ” ایک اہم شق ہے اور آئین کے آرٹیکل 243-اے کے تحت جدید دور میں جنگ صرف زمینی، فضائی یا بحری نہیں رہی بلکہ ذہنی اور تکنیکی محاذ بھی شامل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کالعدم تنظیم ٹی ایل پی کے حوالے سے بتایا کہ ان کا اس تنظیم کے ساتھ 18 سالہ تعلق رہا، تاہم وہ قانون کی رو سے کالعدم ٹھہری اور جو بھی ریڈ لائن پار کرے گا اسے سختی سے نمٹا جائے گا۔
حکام کے بقول اس ملاقات یا مستقبل میں آئینی ترمیم کے مسودے کے منظرعام پر آنے کے بعد سیاسی جماعتیں اور پارلیمانی حلقے باقاعدہ طور پر اپنی رائے اور سفارشات دیں گے۔ تب تک پارٹی قیادت کے بقول قیاس آرائیوں سے گریز بہتر ہے۔






