شیخ رشید کو عمرے کے لیے بیرونِ ملک جانے سے روک دیا گیا، عدالت کی اجازت کے باوجود امیگریشن حکام کا انکار
اسلام آباد (ڈیسک نیوز) — سابق وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے روانگی کے وقت نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے روک دیا۔
ذرائع کے مطابق شیخ رشید عدالت سے اجازت ملنے کے بعد سعودی عرب کے لیے روانہ ہو رہے تھے، تاہم امیگریشن حکام نے انہیں ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود سفر کی اجازت نہیں دی۔
عدالتی اجازت کے باوجود روانگی سے روکے گئے
شیخ رشید نے ایئرپورٹ پر ہی اپنے وکیل اور ساتھیوں کے ہمراہ ایک ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے انہیں عمرے کی ادائیگی کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی تھی، اور عدالتی احکامات کی نقل متعلقہ اداروں تک پہنچا دی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اپنے حکم میں واضح طور پر ہدایت دی تھی کہ ان کے سفر میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے، تاہم اس کے باوجود انہیں ایئرپورٹ پر روک دیا گیا۔
امیگریشن حکام پر الزام
شیخ رشید کے مطابق ایئرپورٹ پر انہیں امیگریشن عملے کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ بیرونِ ملک نہیں جا سکتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امیگریشن افسران عابد اور توقیر نے عدالت کے واضح حکم کے باوجود انہیں جانے کی اجازت نہیں دی۔
عدالت سے دوبارہ رجوع کرنے کا اعلان
اپنے ویڈیو بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ عدالت کے حکم کی خلاف ورزی توہینِ عدالت کے زمرے میں آتی ہے، اور وہ اس معاملے پر دوبارہ عدالت سے رجوع کریں گے۔
ان کا کہنا تھا:
“جس ملک میں ہائی کورٹ کا آرڈر نہ مانا جائے، وہاں اللہ ہی مدد فرمائے گا۔ انشاءاللہ، اللہ ہی عمرہ کرائے گا، اور انہیں اپنے فیصلے پر شرمندہ ہونا ہوگا۔”
پس منظر
واضح رہے کہ شیخ رشید احمد مختلف مقدمات میں ضمانت پر ہیں اور حال ہی میں انہوں نے لاہور ہائی کورٹ سے عمرہ کی ادائیگی کے لیے بیرونِ ملک سفر کی اجازت حاصل کی تھی۔






