اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

طالبان رجیم کو واضح کردیا دہشت گردی کو ختم کریں، کیسے؟ یہ آپ کا کام ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد — پاک فوج کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کی ضمانت صرف مسلح افواج دیتی ہیں اور یہ ضمانت کابل کو منتقل نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے طالبان کو دہشت گردوں کی سہولت کار قرار دیتے ہوئے مؤقف واضح کیا کہ ایسے عناصر کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں۔
سینئر صحافیوں کو بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا: "طالبان ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کے سروں کے فٹ بال بنا کر کھیلتے ہیں، ان سے مذاکرات کیسے ہوسکتے ہیں؟” انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا اور سرزمینِ افغانستان کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے۔
اہم نکات

ڈرون آپریشنز کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ڈرون کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں، اور وزارت اطلاعات نے اس بات کی متعدد بار وضاحت کی ہے۔

استنبول کانفرنس کے بارے میں موقف واضح کرتے ہوئے کہا گیا کہ "دہشت گردی نہیں ہونی چاہیے، مداخلت نہیں ہونی چاہیے اور افغان سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیے”۔

طالبان رجیم کی موجودہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں اور جو عناصر پاکستان میں کارروائیوں سے بھاگ کر افغانستان چلے گئے تھے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور افغان طالبان کو تبدیل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہا۔

آپریشنز اور سلامتی کے اعداد و شمار
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ امسال تک تقریباً 62,113 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 1,667 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے 128 افراد افغان شہری ہیں۔ ان آپریشنز میں 582 افسر اور جوان شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ اوسطاً روزانہ تقریباً 207 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہو رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان میں آپریشنز نسبتاً زیادہ ہو رہے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا (کے پی) میں دہشت گرد زیادہ ہلاک کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے نشہ آور ادویات کی کاشت اور اسمگلنگ، مالی فوائد اور وار لارڈز کے ساتھ اشتراک کو دہشت گردی کا بڑا ذریعہ قرار دیا۔
سرحدی اہداف اور چوکیوں کی صورتحال
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کی سرحد تقریباً 2,600 کلومیٹر طویل ہے جس میں پہاڑ اور دریا شامل ہیں، ہر 25 تا 40 کلومیٹر پر چوکی بنائی جاتی ہے مگر ہر جگہ چوکی بننے کے قابل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان جانب کے گارڈز بعض اوقات دہشت گردوں کو سرحد پار کروانے کے لیے ہماری فوج پر فائرنگ کرتے ہیں، جس پر ہماری جوابی کاروائی ہوتی ہے۔
مزید کہا گیا کہ ہمیں سرحدی تحفظ کی ذمہ داری اکیلے نبھانی پڑتی ہے جبکہ دنیا بھر میں سرحدی گارڈز دونوں طرف موجود ہوتے ہیں۔
دیگر بیانات

فوج میں کسی عہدے کے قیام کا فیصلہ حکومتی اختیار ہے، فوج کا نہیں۔

گورنر راج کے سوال پر کہا گیا کہ یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

غزہ میں فوج بھیجنے کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ حکومت کا معاملہ ہے، فوج نہیں بتاتی۔

میزائل تجربات کے سوال پر کہا گیا کہ ہر ملک میں دفاعی اور تکنیکی ترقی معمول کی بات ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قوم، علماء، میڈیا اور سیاسی جماعتوں کو یک زبان ہو کر فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ اندرونی سکیورٹی کے مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو سکے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button