لندن (بی بی سی / مانیٹرنگ ڈیسک):
برطانوی حکومت نے سابق شہزادہ اینڈریو سے ان کا اعزازی فوجی عہدہ "وائس ایڈمرل” واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ ان کا آخری باقی رہ جانے والا فوجی ٹائٹل تھا۔
واضح رہے کہ ملکہ الزبتھ دوم نے 2022 میں ان سے تمام اعزازی فوجی عہدے واپس لے لیے تھے، جب ان کے خلاف ورجینیا جیفری — جو امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کیس کی مرکزی مدعیہ تھیں — نے جنسی زیادتی کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔
تازہ ترین اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب بادشاہ چارلس سوم نے جمعرات کے روز اپنے چھوٹے بھائی سے باقی تمام شاہی القابات اور اعزازات بھی واپس لے لیے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب برطانوی عوام میں جیفری ایپسٹین سے اینڈریو کے تعلقات پر غصہ اور تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیرِ دفاع جان ہیلی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ:
“اینڈریو نے اپنی تمام اعزازی فوجی ذمہ داریاں چھوڑ دی ہیں۔ بادشاہ کی ہدایت پر اب ہم ان کا آخری خطاب، وائس ایڈمرل، بھی واپس لینے کے عمل میں ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بادشاہ چارلس سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرے گی کہ آیا اینڈریو سے ان کے فوجی تمغے بھی واپس لیے جائیں یا نہیں۔
شہزادہ اینڈریو — جو کبھی 1982 کی فاک لینڈ جنگ میں شاہی بحریہ کے ہیلی کاپٹر پائلٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں — نے 22 سالہ فوجی کیریئر کے بعد 2001 میں ریٹائرمنٹ لی تھی۔
اینڈریو نے ورجینیا جیفری کی جانب سے لگائے گئے جنسی زیادتی کے الزامات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔ تاہم، جیفری نے اکتوبر میں شائع ہونے والی اپنی یادداشت میں دعویٰ کیا تھا کہ اسے اینڈریو کے ساتھ تین مواقع پر جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا گیا، جن میں سے دو مواقع پر وہ صرف 17 سال کی تھی۔






