نئی دہلی (نیوز ڈیسک) — بھارت میں حکمراں جماعت بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کی ہندوتوا پالیسیوں کے باعث مسلمانوں کے خلاف تعصب اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق مودی حکومت اور انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی سوچ نے بھارت کے سیکولر تشخص کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حالیہ دنوں میں ایک تقریب کے دوران متنازع بیان دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ریاست میں حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے الزام عائد کیا کہ حلال مصنوعات سے حاصل ہونے والا منافع مذہب کی تبدیلی، جہاد اور دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
تقریب کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ "سیاسی اسلام نے بھارت کو تقسیم کرنے اور آبادی کے توازن کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے، ہمارے بزرگوں نے اس کے خلاف جدوجہد کی مگر تاریخ میں اسے چھپایا گیا۔” ان کے ان بیانات کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیکولر حلقوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کے بعد رامپور اور بہار سمیت مختلف علاقوں میں ہندوتوا تنظیموں کے کارکنوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں، جن میں ایک مسجد پر حملہ اور قرآن پاک کی بے حرمتی بھی شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی "بلڈوزر پالیسی” کے نتیجے میں 2017ء سے اب تک ہزاروں مسلم خاندانوں کے مکانات مسمار کیے جا چکے ہیں، جسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت کے دور میں مذہبی انتہا پسندی، اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور مسلم مخالف پالیسیوں نے بھارت کے سیکولر ازم کے دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔






