عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر آئندہ کا لائحہ عمل دوں گا، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
پشاور (نمائندہ خصوصی) – وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو وہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان عوام کے سامنے کریں گے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "اپنے قائد سے ملاقات کے بغیر وفاقی وزارت داخلہ کے ساتھ کسی مذاکراتی عمل میں شریک نہیں ہوں گے۔”
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ صوبے اور عوام کی امنگوں کے مطابق حکومت کریں گے اور خیبرپختونخوا کے عوام کا سر کبھی جھکنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "وزیراعظم کی طرف سے پیش کیا گیا ایجنڈا امن و امان سے متعلق نہیں تھا۔”
گندم، مہاجرین اور مالی بقایاجات کا مسئلہ
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے، جس پر انہوں نے وفاقی اجلاس میں سخت موقف اپنایا۔ انہوں نے افغان مہاجرین کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جو مہاجرین گزشتہ 40 تا 45 سال سے پاکستان میں مقیم ہیں، ان کی واپسی عزت و وقار کے ساتھ ہونی چاہیے۔ "یہ ایک قومی پالیسی ہے، اور ہم اس پر عمل درآمد کریں گے،” انہوں نے کہا۔
وفاق سے مالی واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاق کے ذمے صوبے کے 500 ارب روپے واجب الادا ہیں، جبکہ صوبے کو دی جانے والی گاڑیاں بھی پرانی اور ناکارہ ہیں جنہیں وہ واپس کریں گے۔
سیاسی آزادی اور گڈ گورننس کا اعلان
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ آئندہ جھوٹی ایف آئی آرز کا اندراج نہیں ہوگا، 3 ایم پی او کے تحت کسی سیاسی کارکن یا طالب علم کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے قبائلی اضلاع میں میڈیکل کالج اور یونیورسٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ صوبے میں خواتین کے لیے علیحدہ پولیس اسٹیشن قائم کیے جائیں گے جبکہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
اپنے خلاف مہم کا بھی ذکر
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے نام کے اعلان کے بعد من گھڑت الزامات لگائے جا رہے ہیں اور ایک منفی بیانیہ بنایا جا رہا ہے تاکہ انہیں ناکام کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا، "اگر میں اپنے لیڈر سے ملاقات کی بات کروں تو کیا یہ ٹکراؤ کہلائے گا؟”
عوام سے رجوع کرنے کا اعلان
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو وہ چارسدہ، خیبر اور کرک کے عوام کے سامنے اپنا مقدمہ رکھیں گے اور عوامی حمایت سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
آخر میں، خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔






