اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

دہشت گردی پر قابو نہ پایا گیا تو خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردی پر سنجیدگی سے قابو نہ پایا تو خطے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ عربیہ کو ایک انٹرویو میں کیا۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کو سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی اس معاہدے کے نتائج کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، اور آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں ہی واضح ہو سکے گا کہ کتنا مؤثر عمل درآمد ہوتا ہے۔

قطر اور ترکی کی ثالثی اہم کردار

خواجہ آصف نے بتایا کہ یہ معاہدہ قطر اور ترکیے کی ثالثی سے ممکن ہوا، اور دونوں ممالک کی موجودگی ضمانت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، ترک صدر رجب طیب ایردوان اور ترک وفد کے سربراہ ابراہیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

ان کے مطابق، معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے اگلا اجلاس استنبول میں آئندہ ہفتے ہوگا، جہاں دونوں ممالک ایک مؤثر طریقہ کار پر اتفاق کریں گے تاکہ سرحدی کشیدگی اور دہشت گردی جیسے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔

دہشت گردی تعلقات میں تناؤ کی اصل وجہ

خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے، اور حالیہ جھڑپوں نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، افغان وزیرِ دفاع نے بھی تسلیم کیا ہے کہ دہشت گردی ہی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی بنیادی وجہ ہے۔

افغان مہاجرین اور بارڈر مینجمنٹ پر مؤقف

وزیر دفاع نے افغان مہاجرین کے حوالے سے پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا کہ جن مہاجرین کے پاس قانونی دستاویزات ہیں وہ پاکستان میں رہ سکیں گے، تاہم بغیر کاغذات کے افراد کی واپسی کا عمل جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر کا استعمال باضابطہ اور قانونی طریقے سے ہونا چاہیے، جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔

تعلقات کی بحالی اور تجارتی سرگرمیاں

خواجہ آصف نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات معمول پر آ سکیں گے، اور نہ صرف امن بحال ہوگا بلکہ پاک افغان تجارت اور ٹرانزٹ بھی دوبارہ شروع ہو سکے گی، جس سے افغانستان پاکستانی بندرگاہوں کو دوبارہ استعمال کر سکے گا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button