دوحہ معاہدہ درست سمت میں پہلا قدم ہے، ترکیہ میں نگرانی کے نظام کا قیام اہم ہوگا: اسحاق ڈار
ویب ڈیسک — نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ درست سمت میں پہلا قدم ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے برادر ممالک قطر اور ترکیہ کے تعمیری کردار کو سراہا اور کہا کہ ہم ایک ٹھوس اور قابل تصدیق نگرانی کے نظام کے قیام کے منتظر ہیں، جس کی میزبانی ترکیہ میں ہونے والے اگلے اجلاس میں کی جائے گی۔
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یہ نگرانی کا نظام ناگزیر ہے تاکہ افغان سرزمین سے پاکستان کی جانب دہشت گردی کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مزید جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
یاد رہے کہ قطر کی میزبانی اور ترکیہ کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان 13 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جسے پاکستان کی ایک بڑی سفارتی و اسٹریٹیجک کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے کے تحت افغانستان سے پاکستان کی سرزمین پر دہشت گرد حملوں کا سلسلہ بند کرنے اور آئندہ کسی بھی واقعے کی روک تھام کے لیے فالو اپ مذاکرات 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوں گے۔






