لندن— برطانوی شاہی خاندان کے رکن پرنس اینڈریو نے اپنے تمام شاہی اعزازات اور القابات سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ بادشاہ چارلس سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔
اپنے بیان میں پرنس اینڈریو نے کہا کہ وہ آئندہ کسی بھی شاہی خطاب یا لقب کا استعمال نہیں کریں گے، تاہم وہ بطور ’’پرنس‘‘ ہی جانے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرحوم والدہ، ملکہ الزبتھ دوم کی جانب سے دیے گئے تاریخی لقب ’’ڈیوک آف یارک‘‘ سے بھی دستبردار ہو چکے ہیں۔
سابقہ اہلیہ اور بیٹیوں کا موقف
برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ اینڈریو کی سابقہ اہلیہ سارہ فرگوسن نے بھی شاہی القابات استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ان کی دونوں بیٹیاں — شہزادی بیٹریس اور شہزادی یوجینی — بدستور اپنے شاہی القابات اور مراعات کی حامل رہیں گی۔
پس منظر: جنسی اسکینڈلز اور عوامی دباؤ
یاد رہے کہ پرنس اینڈریو ایک طویل عرصے سے امریکی کاروباری شخصیت جیفری ایپسٹین سے مبینہ تعلقات اور اس کے نیٹ ورک کے ساتھ جڑے جنسی جرائم کے الزامات کی وجہ سے شدید عوامی اور میڈیا تنقید کی زد میں ہیں۔ ان پر ماضی میں کم عمر لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا، جسے شہزادہ اینڈریو نے ہمیشہ سختی سے رد کیا ہے۔
ان الزامات کے باعث شہزادہ اینڈریو پر نہ صرف برطانیہ میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی دباؤ بڑھا، جس کے نتیجے میں ان کی عوامی و سرکاری ذمہ داریوں میں بتدریج کمی کی گئی تھی۔ اب وہ باضابطہ طور پر شاہی حیثیت سے دستبردار ہو چکے ہیں۔
تجزیہ
شاہی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ شاہی خاندان کی ساکھ کی بحالی اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ بادشاہ چارلس کی قیادت میں شاہی خاندان ایک "جدید اور ذمہ دار” ادارہ بننے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس فیصلے کو اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔






