واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کو وہ فوری طور پر ختم کروا سکتے ہیں، اگر وہ چاہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں جنگیں رکوانا پسند ہے اور وہ اس قسم کی صورتحال سے نمٹنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
اوول آفس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، "میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی سے پوری طرح آگاہ ہوں، اور اگر میں چاہوں تو یہ جنگ فوراً ختم ہو سکتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ ان کی کوششوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رک گئی اور لاکھوں جانیں بچائی گئیں۔ "مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ میری کوششوں سے جنوبی ایشیا میں امن قائم رکھنے میں مدد ملی،” انہوں نے کہا۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحدی علاقوں پر حملوں میں شدت آئی ہے جس کے جواب میں پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے افغان سرزمین پر ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں درجنوں دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
ابتدائی طور پر دونوں ممالک کے درمیان 48 گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی طے پائی تھی، جس میں بعد ازاں توسیع کر دی گئی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، یہ جنگ بندی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری مذاکرات کے اختتام تک برقرار رہے گی۔ ان مذاکرات کا مقصد مستقل امن کی راہ ہموار کرنا ہے، جبکہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا آغاز ہفتے کے روز متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ جرات مندانہ ہے، لیکن افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے اسباب پیچیدہ اور گہرے ہیں، جن کے حل کے لیے طویل المدتی سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔





