اہم خبریںتازہ تریندنیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان اور بھارت سے متعلق اہم بیان: "چاہتے ہیں دونوں ممالک بہترین ہمسائے بنیں”

قاہرہ / واشنگٹن (14 اکتوبر 2025) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے حوالے سے ایک بار پھر اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں دونوں ممالک بہترین ہمسائے بن کر پرامن تعلقات استوار کریں۔ یہ بات انہوں نے مصر میں غزہ جنگ بندی معاہدے پر ثالث ممالک کے دستخط کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی موجودگی میں ان کی تعریف کرتے ہوئے انہیں "عظیم رہنما” قرار دیا، جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خوشگوار انداز میں ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"ہم نے بھارت کے سات طیارے گرائے تھے!”

یہ جملہ ہال میں موجود صحافیوں کے لیے باعث حیرت و دلچسپی بن گیا اور ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر کو عالمی توجہ کا مرکز بنا گیا۔

آرمی چیف کو "فیورٹ فیلڈ مارشل” قرار دیا

صدر ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی بھی بھرپور تعریف کرتے ہوئے انہیں اپنا "فیورٹ فیلڈ مارشل” قرار دیا، جو کہ ایک غیر معمولی اور علامتی لقب ہے، کیونکہ پاکستان میں باضابطہ طور پر موجودہ عہدہ چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) ہے۔

ٹیرف کی مدد سے جنگ روکی، ٹرمپ کا دعویٰ

ائیر فورس ون میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ
"میں نے پاکستان اور بھارت کی ممکنہ جنگ کو ٹیرف اور تجارتی اقدامات کے ذریعے روکا تھا۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں ان کی "تجارتی حکمتِ عملی” کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔

یہ پہلی بار نہیں کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ثالثی یا مداخلت کا ذکر کیا ہو؛ اس سے قبل بھی وہ کئی مرتبہ جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں۔

عالمی سطح پر مثبت اشارے، مگر خطے میں خدشات باقی

صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان اور بھارت کو "بہترین ہمسائے” بننے کی خواہش ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، تاہم زمینی حقائق اور موجودہ جیوپولیٹیکل کشیدگیاں اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

پسِ منظر

پاکستان اور بھارت کے تعلقات 2019ء کے بعد مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔

لائن آف کنٹرول پر فائرنگ، سفارتی سطح پر جمود اور تجارتی معطلی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے اس موقع پر اس نوعیت کا بیان جاری ہونا ایک علامتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button