یروشلم: اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہاپسند وزیر اتمار بن گویر نے وزیرِاعظم نیتن یاہو کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے حماس کو مکمل طور پر ختم نہ کیا تو ان کی جماعت اتحادی حکومت سے علیحدہ ہو جائے گی، جس سے نیتن یاہو کی حکومت کے گرنے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔
بن گویر نے کہا کہ وہ غزہ میں کسی بھی ایسے امن معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں جس میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہو۔ ان کے مطابق، "ہم ایسے کسی معاہدے کی حمایت نہیں کر سکتے جو دشمن کے وجود کو برقرار رکھے اور اس کے قیدیوں کو رہا کرے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ اگر وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں حکومت نے حماس کو مکمل طور پر تباہ نہ کیا تو ان کی پارٹی پارلیمنٹ میں حکومت گرانے کے لیے ووٹ دے گی۔
سیاسی بحران کی فضا
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بن گویر کی اس کھلی دھمکی نے نیتن یاہو حکومت کو مزید داخلی دباؤ کا شکار کر دیا ہے، جو پہلے ہی:
داخلی سیاسی تناؤ
جنگ بندی معاہدے پر اختلاف
اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید
کا سامنا کر رہی ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایک طرف جنگ بندی معاہدے کی کوششیں جاری ہیں، اور دوسری جانب نیتن یاہو کو اپنی حکومت بچانے کے لیے اتحادی جماعتوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا پڑ رہی ہے۔
پس منظر:
اتمار بن گویر ایک سخت گیر قوم پرست اور اسرائیل میں دائیں بازو کے انتہا پسند خیالات کے حامل وزیر ہیں۔
ان کی جماعت کی پارلیمنٹ میں نشستیں نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔






