پشاور: تحریک انصاف کے ذرائع کی جانب سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی جگہ صوبائی وزیر تعلیم سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کرنے کی اطلاعات پر پی ٹی آئی قیادت اور خود سہیل آفریدی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے ان خبروں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس قسم کی افواہیں تحریک انصاف کو کمزور کرنے کی سازش ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں کہا، "جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلا کر پارٹی میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم ان سازشوں کو ہر فورم پر ناکام بنائیں گے۔ علی امین گنڈاپور ہی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں اور رہیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی افواہوں کا مقصد پارٹی میں داخلی خلفشار پیدا کرنا ہے، لیکن پارٹی قیادت اور کارکنان ہر حال میں متحد ہیں اور رہیں گے۔ "ہم پارٹی کو تقسیم کرنے کی ہر کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور تنظیمی یکجہتی کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا،” انہوں نے کہا۔
دوسری جانب صوبائی وزیر تعلیم سہیل آفریدی نے بھی وزیراعلیٰ بنائے جانے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، "سوشل میڈیا پر علی امین گنڈاپور کو ہٹانے اور مجھے وزیراعلیٰ نامزد کرنے کی خبریں قطعی طور پر جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔ مجھ سے منسوب تمام بیانات حقائق کے منافی ہیں۔”
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی سطح پر وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، اور وہ علی امین گنڈاپور اور چیئرمین عمران خان کے وفادار ساتھی ہیں اور رہیں گے۔
تحریک انصاف کی قیادت نے ان افواہوں کو پارٹی کے خلاف ایک منظم مہم قرار دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ تنظیمی استحکام اور اتحاد برقرار رکھیں گے۔





