اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

پاکستان میں چہرے بدلے لیکن ترقی نہیں ہوئی: اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی تک مسائل حل نہیں ہوں گے، ہر ڈویژن کو صوبہ بنایا جائے: مفتاح اسماعیل

کراچی: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان کی گورننس کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے، ملک میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی ممکن نہیں تو پھر ہر ڈویژن کو صوبہ بنایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انڈس کونکلیو کے دوسرے روز سوشل سیکٹر ڈویلپمنٹ پر منعقدہ پینل ڈسکشن میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صرف چہرے بدلے ہیں، لیکن نظام میں بہتری نہیں آئی، لاہور کی مال روڈ پر صرف لیڈروں کی تصویریں نظر آتی ہیں، لیکن عوام کو صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات میسر نہیں۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ:

"حکومت نے کبھی ڈلیور نہیں کیا۔ ہم تعلیم اور صحت کے شعبے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔”

انہوں نے بتایا کہ:

دو کروڑ 70 لاکھ بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔

پنجاب میں ایک کروڑ 10 لاکھ جبکہ سندھ میں 70 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

2019 کے بعد پاکستان کے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں 6 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ:

"کسی کی نیت خراب نہیں، لیکن گورننس کا سٹرکچر تباہ حال ہے۔ اگر بچوں کو تعلیم نہیں دیں گے تو غریب کبھی آگے نہیں بڑھے گا۔ امیر کے بچے امیر اور غریب کے بچے غریب ہی رہتے ہیں۔”

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں قوم مزید غربت کا شکار ہوئی ہے، اور خطے میں سب سے مہنگی بجلی و گیس پاکستان میں ہے۔ بڑی کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں جبکہ پولیس اور سول سروس کا نظام بھی ناکام ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ:

"صوبوں کو تعلیم، صحت، پولیس اور سول سروس کے شعبے دیے گئے ہیں، مگر اگر ان میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے جائیں گے تو پھر انتظامی بہتری کے لیے نئے صوبے بنانے ہوں گے۔”

اس موقع پر انہوں نے آبادی، تعلیم اور گورننس کے حوالے سے حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ:

"اشتہارات تو صرف لیڈروں کے لگتے ہیں، آبادی میں کمی، تعلیم یا صحت کے بارے میں کبھی کوئی آگاہی مہم نظر نہیں آتی۔”

مفتاح اسماعیل نے پنجاب کی سیاسی قیادت پر بھی تنقید کی اور کہا:

"اگر پنجابی جاگ گئے تو پھر تمہارا کیا ہوگا؟ آج پنجاب کے سکول اور اسپتال ایک بیوروکریٹ چلا رہا ہے۔”

انہوں نے زور دیا کہ تعلیم، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button