اسلام آباد: مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 33 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ارب 36 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ خسارہ 7 ارب ڈالر تھا۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارے میں 2 ارب 32 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس عرصے میں ملکی برآمدات 3.83 فیصد کمی کے ساتھ 7 ارب 60 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات میں 14.39 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم تقریباً 17 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق صرف ستمبر 2025 میں برآمدات کا حجم 3.64 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 50 کروڑ ڈالر رہا، جو اگست 2025 میں 2 ارب 41 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھا۔ تاہم سالانہ بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو ستمبر 2024 کے مقابلے میں ستمبر 2025 کی برآمدات میں 11.71 فیصد کمی دیکھی گئی، جب گزشتہ سال اسی ماہ میں برآمدات 2 ارب 83 کروڑ ڈالر سے زائد تھیں۔
ستمبر 2025 میں درآمدات کا حجم 5 ارب 84 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا، جس کے نتیجے میں اس ماہ کا تجارتی خسارہ 3 ارب 34 کروڑ ڈالر رہا، جو ماہانہ بنیاد پر 16.33 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 46 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق برآمدات میں کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافہ ملک کے تجارتی توازن کے لیے خطرہ ہے، جس پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔





