مانچسٹر: برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں یہودیوں کے مقدس مذہبی دن یومِ کفارہ کے موقع پر ایک شخص نے یہودی عبادت گاہ پر چاقو سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق واقعہ اُس وقت پیش آیا جب عبادت گاہ میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ حملہ آور نے سیکیورٹی چیک پوسٹ سے زبردستی اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور اس دوران اپنی گاڑی عبادت گاہ کے قریب موجود افراد پر چڑھا دی۔
گاڑی روکنے کے بعد حملہ آور نے چاقو نکال کر عبادت گزاروں پر حملہ شروع کر دیا، جس میں دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک سیکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے جو حملہ آور کو روکنے کی کوشش میں شدید زخمی ہوا تھا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ تین دیگر زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے اطلاع ملتے ہی عبادت گاہ کو گھیرے میں لے لیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران حملہ آور کو بھی گولیاں لگیں، تاہم پولیس نے فوری طور پر اس کی موت کی تصدیق نہیں کی۔ حملہ آور کے جسم پر مشتبہ ذرات اور ممکنہ بارودی مواد کے شواہد ملنے کے بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ حملہ آور نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی، جس کے باعث علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں غزہ جنگ کے بعد دنیا بھر میں یہودی عبادت گاہوں اور یہودی برادری کو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رواں برس پیرس میں بھی یہودیوں کے گھروں، عبادت گاہوں اور کاروباری مراکز پر تخریب کاری کی گئی تھی، جب کہ گزشتہ برس ملبورن (آسٹریلیا)، روس اور جرمنی میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
پولیس اس حملے کو ممکنہ طور پر نفرت پر مبنی جرم (Hate Crime) کے طور پر دیکھ رہی ہے، تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی رائے دی جائے گی۔






