اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

آئی ایم ایف سے مذاکرات مثبت سمت میں جاری ہیں، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

اسلام آباد (ویب ڈیسک) – وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اب تک آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی بات چیت مجموعی طور پر حوصلہ افزا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کو 11 فیصد تک لے جانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

سرکاری افسران کے اثاثوں کی شفافیت پر زور

ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری افسران کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا پابند بنانے کے لیے دسمبر تک قانون سازی کی جائے۔ یہ مطالبہ شفافیت اور مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

عدالتی مقدمات میں ٹیکس وصولیوں کی امید

محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ عدالتوں میں زیر التوا ٹیکس مقدمات میں حکومت کو رقوم کی وصولی کی امید ہے، اور اس حوالے سے بھی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اضافی ٹیکس اقدامات فی الحال زیر غور نہیں ہیں۔

سات ارب ڈالر پروگرام پر مذاکرات جاری

آئی ایم ایف مشن کے ساتھ سات ارب ڈالر کے اقتصادی جائزہ پروگرام پر مذاکرات ساتویں روز بھی جاری رہے۔ گزشتہ روز آئی ایم ایف وفد نے صوبائی حکومتوں کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں صوبائی مالی امور، اخراجات اور بجٹ اہداف پر بات چیت کی گئی۔

منتقل شدہ محکموں کے اخراجات صوبے اٹھائیں، آئی ایم ایف کا مؤقف

آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ جن محکموں کو 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کیا گیا ہے، ان کے تمام اخراجات بھی صوبائی حکومتیں خود برداشت کریں۔ ان محکموں میں تعلیم، صحت، زراعت، خوراک، لیبر اور سماجی بہبود شامل ہیں، جب کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button