مریم نواز کے بیان پر سیاسی گرما گرمی، اعظم نذیر تارڑ کی پیپلز پارٹی سے معذرت
اسلام آباد: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے فیصل آباد میں دیے گئے بیان پر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی، جس پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی سے معذرت کر لی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مریم نواز کے بیان پر پیدا ہونے والی غلط فہمی کو "گھر کا معاملہ” سمجھ کر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اس قسم کی گرما گرمی معمول کا حصہ ہوتی ہے، اور حکومتی اتحاد اس واقعے سے متاثر نہیں ہو گا۔
اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ:
"وہ خوش نہ ہوں، ان کی خواہش پوری نہیں ہو گی، اتحاد قائم و دائم رہے گا۔”
معاملے کو سلجھانے کے لیے انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں طارق فضل چوہدری اور طلال چوہدری کو پیپلز پارٹی کے ناراض اراکین کو منانے کی ذمہ داری سونپی۔
واقعے کے تناظر میں اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کو کل تک کے لیے ملتوی کر دیا۔
یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیصل آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ:
"ہر چیز کا علاج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں ہوتا، این ایف سی کے پیسے سب کو یکساں ملتے ہیں، سوال یہ ہے کہ آپ اپنے پیسے کہاں خرچ کرتے ہیں؟”
انہوں نے مزید کہا کہ:
"جب پنجاب نہریں نکالنے کی بات کرتا ہے تو تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ ہم پانی چوری نہیں کرنا چاہتے، بلکہ چولستان کی زمین کو آباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
مریم نواز کے ان ریمارکس کو پیپلز پارٹی کی قیادت نے تنقیدی انداز میں لیا، جس کے بعد ایوان میں واضح ناراضی دیکھنے میں آئی۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ وفاقی حکومت نے بروقت معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی ہے، لیکن اتحادی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج مستقبل میں حکومت کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔






