دبئی / نئی دہلی (اسپورٹس ڈیسک) – ایشیا کپ 2025 میں فتح کے باوجود ٹرافی نہ لینے پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے معاملہ بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھارتی بورڈ کے مطابق وہ نومبر کے پہلے ہفتے میں ہونے والے آئی سی سی اجلاس میں ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین محسن نقوی کے خلاف شدید احتجاج کرے گا۔
"محسن نقوی حکومت پاکستان کے مرکزی لیڈر ہیں”
بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیواجیت سائیکیا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"ہم نے پہلے دن سے بھارتی حکومت کی پالیسی پر عمل کیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ کوئی باہمی سیریز نہیں کھیلتے اور ایشیا کپ میں بھی ٹرافی محسن نقوی سے نہ لینے کا فیصلہ اسی پالیسی کا حصہ تھا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ محسن نقوی پاکستان حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں، اسی لیے بھارتی ٹیم نے ٹرافی لینے سے انکار کیا، جو بعد میں تقریب سے واپس منگوا لی گئی۔
بی سی سی آئی کا موقف اور اقدامات
دیواجیت سائیکیا کا کہنا تھا کہ:
ایشیا کپ ایک ملٹی نیشنل ٹورنامنٹ ہے، باہمی تعلقات سے الگ۔
بھارتی ٹیم کو پاکستانی ٹیم کو شکست دینے پر فخر ہے۔
ہم نے اے سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا تھا کہ ہم محسن نقوی سے ٹرافی نہیں لیں گے۔
ہمیں امید ہے کہ ٹرافی اور میڈلز جلد بھارت کو واپس کیے جائیں گے۔
بھارتی کھلاڑیوں کا رویہ: تعلقات کی جھلک؟
یاد رہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران بھارتی کھلاڑیوں نے تین مرتبہ پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہیں ملایا۔ فائنل کے بعد بھی روایتی کپتانوں کی تصویر نہیں بنائی گئی۔ اس کے علاوہ بھارتی کھلاڑیوں نے چیئرمین اے سی سی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کیا، جس پر تقریب ٹرافی دیے بغیر ہی ختم کر دی گئی۔
21 کروڑ روپے انعام کا اعلان
بی سی سی آئی نے پاکستان کے خلاف فتح پر بھارتی اسکواڈ کے لیے 21 کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا ہے، جسے "خصوصی حوصلہ افزائی” قرار دیا گیا ہے۔
پس منظر میں سیاست کا رنگ؟
تجزیہ کاروں کے مطابق کھیل میں سیاست کی مداخلت ایک تشویش ناک رجحان بنتی جا رہی ہے، جو نہ صرف کھیل کی روح بلکہ ریجنل ہم آہنگی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ایشیا کپ جیسے ٹورنامنٹ کو اختلافات کے بجائے امن اور کھیل دوستی کا ذریعہ بننا چاہیے۔






