دبئی: ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں بھارت نے تلک ورما کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد 5 وکٹوں سے شکست دے دی۔
دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس بڑے مقابلے میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔ پاکستان کی ٹیم 19.1 اوورز میں 146 رنز بنا سکی، جس کے جواب میں بھارتی ٹیم نے 19 ویں اوور میں ہدف حاصل کرلیا۔
پاکستانی بیٹنگ کا آغاز اچھا، انجام مایوس کن
پاکستان کی اننگز کا آغاز صاحبزادہ فرحان اور فخر زمان نے شاندار انداز میں کیا۔ دونوں اوپنرز نے ابتدائی 9 اوورز میں ٹیم کو 77 رنز کا زبردست آغاز فراہم کیا۔ فرحان نے 38 گیندوں پر 57 رنز کی دلکش اننگز کھیلی جس میں 2 چھکے اور 5 چوکے شامل تھے جبکہ فخر زمان نے 46 رنز بنائے۔
تاہم، پہلے وکٹ کے بعد پاکستان کی بیٹنگ لائن یکے بعد دیگرے بکھر گئی۔ اگلے 62 رنز کے اندر پوری ٹیم پویلین لوٹ گئی۔ بھارت کی جانب سے کلدیپ یادوو نے 4 وکٹیں لیں جبکہ بمرا، ورون چکرورتی اور اکسر پٹیل نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
بھارتی اننگز: تلک ورما کا جاندار کردار
147 رنز کے تعاقب میں بھارت کی بھی ابتدا کچھ خاص نہ رہی۔ شاہین آفریدی اور فہیم اشرف کی شاندار بولنگ نے ابتدائی 3 وکٹیں جلد گرا دیں۔ شبمن گل، سوریا کمار یادیو اور ابھیشیک شرما 20 رنز کے اندر ہی آؤٹ ہوچکے تھے۔
تاہم، تلک ورما نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو سنبھالا۔ اُن کی شاندار اننگز نے بھارت کو میچ میں واپس لایا۔ دوسری طرف دوبے نے بھی 33 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر بھارت کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔
آخری اوورز میں دباؤ کے باوجود بھارت کے بلے بازوں نے اعتماد کے ساتھ کھیلا اور 19 ویں اوور میں ہدف حاصل کر لیا۔
میچ کے نمایاں کھلاڑی
مین آف دی میچ: تلک ورما (کامیاب تعاقب میں اہم اننگز)
بہترین بولر (پاکستان): فہیم اشرف (3 وکٹیں)
بہترین بولر (بھارت): کلدیپ یادوو (4 وکٹیں)
پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کا زوال
فرحان اور فخر کے بعد کوئی بھی بلے باز کریز پر دیر تک نہ رک سکا۔ حسین طلعت، محمد حارث، سلمان آغا، صائم ایوب، شاہین اور فہیم مکمل ناکام رہے۔ آخری اوور میں صرف 5 رنز کا اضافہ ہو سکا اور پوری ٹیم 146 پر ڈھیر ہوگئی۔
بھارتی ٹیم کی فائنل میں حکمت عملی
بھارت نے ہاردک پانڈیا کی عدم دستیابی کے باوجود شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بمرا، کلدیپ، ورون، اور اکسر نے پاکستانی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔
دوسری اننگز میں دباؤ میں آنے کے باوجود بھارتی بلے بازوں نے عمدہ حکمت عملی کے ساتھ بیٹنگ کی۔ خاص طور پر ورما اور دوبے کی پارٹنرشپ نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
ٹیموں کی پلئینگ الیون
پاکستان: سلمان علی آغا (کپتان)، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، فخر زمان، حسین طلعت، محمد نواز، محمد حارث، فہیم اشرف، شاہین آفریدی، حارث رؤف، ابرار احمد
بھارت: شبمن گل، ابھیشیک شرما، سوریا کمار یادیو، تلک ورما، سنجو سیمسن، شیوم دوبے، رنکو سنگھ، اکسر پٹیل، کلدیپ یادوو، ورون چکرورتی، جسپرت بمرا
خلاصہ: تجربہ بازی پر بازی لے گیا
یہ میچ ثابت کرگیا کہ تجربہ اور مستقل مزاجی کسی بھی ٹیم کو جتوانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان کی نوجوان ٹیم نے شاندار آغاز کیا لیکن وسط میں بکھر گئی، جبکہ بھارت نے بحران میں بھی سکون کے ساتھ کھیلتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔






