گویژو (چین) – چین کے جنوب مغربی پہاڑی صوبے گویژو میں انجینئرنگ کا ایک ناقابلِ یقین شاہکار مکمل کر لیا گیا ہے، جہاں دنیا کا سب سے بلند پل "ہواجیانگ گرینڈ کینین پل” (Huajiang Grand Canyon Bridge) کو اتوار کے روز عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، یہ پل 625 میٹر (تقریباً 2,050 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے اور اسے چین کے مشہور بیپان دریا پر تعمیر کیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، یہ بلندی امریکی شہر سان فرانسسکو کے مشہور گولڈن گیٹ پل سے نو گنا زیادہ ہے۔
دو گھنٹے کی مسافت اب صرف دو منٹ میں
اس پل کی تعمیر سے علاقے میں آمدورفت کا نظام انقلابی طور پر بدل گیا ہے۔ پہلے جہاں یہ خطرناک اور گہری وادی عبور کرنے میں دو گھنٹے لگتے تھے، اب صرف دو منٹ میں عبور کی جا سکتی ہے۔
جدید ترین تعمیراتی کارنامہ
یہ پل نہ صرف بلندی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے اونچا پل ہے، بلکہ 1,420 میٹر لمبے مین اسپین کی وجہ سے یہ پہاڑی علاقے میں تعمیر کردہ دنیا کا سب سے طویل اسٹیل ٹراس گرڈر سسپنشن پل بھی بن چکا ہے۔
پلوں کا صوبہ — گویژو
گویژو، جو ماضی میں چین کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں شمار ہوتا تھا، اب جدید انفراسٹرکچر کا عالمی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اب تک یہاں 30,000 سے زائد پل تعمیر کیے جا چکے ہیں، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے 100 سب سے بلند پلوں میں سے نصف صرف گویژو میں واقع ہیں۔
ایک اور ریکارڈ بیپان دریا کے نام
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا کا بلند ترین پل بیپان دریا پر ہی تعمیر ہوا تھا، جو ہواجیانگ پل سے صرف 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس کی بلندی 565.4 میٹر تھی، اور یہ 2016 میں مکمل ہوا تھا۔






