پشاور: وفاقی وزیر امور کشمیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ پشاور جلسے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "گرینڈ فلاپ” قرار دے دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے جلسے پر ردعمل دیتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ ساتھ خود پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بھی جلسے کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ ان کے بقول، بانی تحریک انصاف کی رہائی کی مہم کی طرح یہ جلسہ بھی ناکامی کا شکار ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا،
"ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ پی ٹی آئی اب صرف تاریخیں دے گی، تحریک نہیں چلا سکے گی۔ جس طرح بھارت کا ’آپریشن سندور‘ ناکام ہوا، اسی طرح پی ٹی آئی کا ’آپریشن فساد‘ بھی راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔”
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنما بانی کی رہائی کے بجائے صرف اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ سیلاب کے دوران خیبر پختونخوا کے عوام کو بھول جانے والوں نے اربوں روپے ناکام جلسے پر ضائع کر دیے۔
انجینئر امیر مقام نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی طرح اس کے جلسے بھی عوام میں مقبولیت حاصل نہیں کر پا رہے۔
"فساد اور ملک دشمنی کی سوچ کو عوام نے اپنے اتحاد سے دفن کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی اندرون و بیرون ملک کامیابیوں نے قوم یوتھ اور دشمنوں کی تمام سازشیں ناکام بنائیں۔”
انہوں نے خیبر پختونخوا میں حالیہ بدامنی کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، لیکن پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے بجائے صرف جلسوں میں مصروف ہے۔
"انہیں عوام کے جان و مال کی کوئی پرواہ نہیں، نہ ہی وہ ان شہداء کا احساس رکھتے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان قربان کر چکے ہیں۔”
آخر میں انجینئر امیر مقام نے کہا کہ صوبے کے عوام پی ٹی آئی کی بے حسی سے تنگ آ چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پشاور جلسے میں لوگوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔






