پشاور (نمائندہ) — پی ٹی آئی کے جلسہ عام میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے عدلیہ کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اُوپر سے نیچے تک آئین کی پاسداری سب پر فرض ہے اور انصاف کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ بانیِ پی ٹی آئی کی جنگ حقیقی آزادی کی جنگ ہے اور انہیں آئین کے لیے آواز اٹھانے پر فخر ہے۔
وزیراعلیٰ نے جلسے سے خطاب میں کہا: ’’آئین کی پاسداری اس ملک میں سب پر فرض ہے، ہم نے آئین کے لیے آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتے رہیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے قوم کو یکجا رہنے کی اپیل کی اور واضح کیا کہ پوری قوم اکٹھی ہے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت آپریشن کی حق میں نہیں، ان کے الفاظ تھے کہ حقیقی آزادی عمران خان کا خواب ہے۔
جلسے کے دوران ماحول کشیدہ رہا — کچھ کارکنان نے وزیراعلیٰ کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی اور ان کا خطاب سننے سے انکار کیا۔ پنڈال میں چند افراد نے بوتلیں بھی پھینکیں اور ’’نہیں نہیں‘‘ کے نعرے لگائے، تاہم علی امین گنڈاپور نے اپنا خطاب جاری رکھا۔
بدانتظامی کے باعث خواتین کے پنڈال میں بھی خلل پڑا اور کچھ کارکنان خواتین کے پنڈال میں داخل ہوگئے، پولیس موقع پر انہیں روکنے میں ناکام رہی جس کے بعد خواتین پنڈال چھوڑ کر چلی گئیں۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے کڑی پالیسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کے پی پہلے بھی پی ٹی آئی کا تھا، آج بھی ہے۔ ہم بانیِ پی ٹی آئی کے لیے لوگوں کے ہاتھ کاٹ دیں گے، جو لوگ کرسیوں پر بیٹھیں ہیں ان سے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔ جو خان کا وفادار نہیں ہوگا، میں اس پر زمین تنگ کردوں گا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں کسی صورت آپریشن قبول نہیں۔
جلسے میں ہونے والی نافرمانی اور ہنگامہ آرائی کے باعث مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی کے فوری ردِ عمل سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔ حکومت اور پارٹی قیادت کے درمیان اس واقعے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ممکن ہے اور آئندہ لائحہ عمل اسی پس منظر میں واضح ہوگا۔





