اہم خبریںدنیا

ایران نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا

تہران: ایران نے جوہری معاہدے اور عالمی پابندیوں کے معاملے پر یورپی ممالک کی جانب سے کیے گئے حالیہ اقدامات کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں تعینات اپنے سفیروں کو فوری طور پر واپس بلا لیا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ فیصلہ تینوں یورپی ممالک کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں "ٹرگر میکانزم” فعال کرنے کے اقدام کے جواب میں بطور احتجاج کیا گیا ہے۔ تہران نے اسے "غیر ذمہ دارانہ” اور "ظالمانہ” قدم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

ایران کے وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یورپی ٹرائیکا کی شرائط ناقابل قبول ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ میں آ کر کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔

یورپی اقدام پر ایرانی قیادت کا ردعمل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، تاہم مذاکرات کسی مثبت نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یورپی ممالک کے ساتھ مشاورت، توقعات کے مطابق نتیجہ خیز نہیں رہی۔

رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس معاملے پر دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا ہے:

"ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ ہم اپنے قومی مفادات اور جوہری پروگرام کے حق میں ڈٹے رہیں گے، خواہ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کیوں نہ ہو جائیں۔”

ٹرگر میکانزم کیا ہے؟

"ٹرگر میکانزم” جسے Snapback Mechanism یا Dispute Resolution Mechanism بھی کہا جاتا ہے، ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کا حصہ ہے۔

اگر کسی رکن ملک کو شبہ ہو کہ ایران معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو وہ یہ میکانزم فعال کر کے معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک لے جا سکتا ہے۔

اگر سلامتی کونسل 30 دن کے اندر پابندیاں روکنے کی متفقہ قرارداد منظور نہ کرے تو پابندیاں خودکار طور پر دوبارہ نافذ ہو جاتی ہیں — اور اس پر کوئی ویٹو بھی نہیں لگایا جا سکتا۔

🗓 پسِ منظر

یاد رہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے 28 اگست کو ایران کے خلاف ٹرگر میکانزم فعال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری معاہدے پر کارکردگی "انتہائی مایوس کن” رہی ہے۔

اب اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر سلامتی کونسل میں پابندیوں کو روکنے پر اتفاق نہ ہو سکا تو آئندہ 30 دنوں میں ایران پر اقوامِ متحدہ کی پرانی پابندیاں خودبخود دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔

🌍 عالمی سطح پر صورتحال مزید کشیدہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اپنے سفیروں کی واپسی ایک غیر معمولی سفارتی قدم ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران اور یورپی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر اختلافات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس تنازعے کو کیسے سنبھالتی ہیں — اور آیا کہ 2015 کے جوہری معاہدے کو بچایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button