تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) – ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران انتہائی افزودہ یورینیئم کے معاملے پر شفاف طریقہ کار اپنانے کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
ایک حالیہ بیان میں ایرانی صدر نے اعتراف کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان بداعتمادی کی دیوار اب بھی "انتہائی بلند” ہے، تاہم ایران اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو شفاف بنانے پر آمادہ ہے تاکہ بین الاقوامی خدشات کو دور کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا:
"ہم شفافیت کے اصولوں کے تحت انتہائی افزودہ یورینیئم کے معاملے پر دنیا کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔”
ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ ہی روز قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا:
"امریکا سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، اور ایران یورینیئم کی افزودگی نہیں روکے گا۔”
خامنہ ای کے اس سخت موقف کے باوجود صدر پزشکیان کا نسبتاً معتدل اور مصالحت آمیز بیان عالمی سطح پر ایران کی ایٹمی پالیسی میں لچک کے امکان کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے شفافیت پر آمادگی ایک ایسا اشارہ ہو سکتا ہے جو مغربی طاقتوں اور IAEA (عالمی جوہری توانائی ایجنسی) کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان موجود گہری بداعتمادی اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔






