اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

بھارت کو جنگ میں دیا گیا جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا؛ مذاکرات کیلیے تیار ہیں؛ وزیراعظم

نیویارک (نمائندہ خصوصی) – وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا دوٹوک مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے تقریر کا آغاز قرآن پاک کی آیت سے کیا اور مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پاکستان کی خودمختاری، بھارت کی حالیہ جارحیت اور مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ "بنیان مرصوص” آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کو ایسا فیصلہ کن جواب دیا گیا ہے جسے تاریخ یاد رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں غیر معمولی جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کیا، جبکہ پاک فضائیہ نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی قیادت میں دشمن کے سات طیارے تباہ کیے۔ "جنرل اسمبلی کا ہال پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا،” وزیراعظم نے فخر سے کہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاعی حق استعمال کیا۔

صدر ٹرمپ کی تعریف، نوبیل انعام کی سفارش

وزیراعظم نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی بروقت مداخلت سے خطے میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔ وزیراعظم نے ان کے امن کردار پر نوبیل انعام دینے کی سفارش بھی کی۔

بھارت سے مذاکرات کی پیشکش

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان طاقت کی برتری کے باوجود جنگ بندی پر آمادہ ہوا اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے اور تنازعات کا حل سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے چاہتا ہے۔

فلسطین کی صورتحال: عالمی ضمیر پر بدنما داغ

فلسطین کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کو عالمی اخلاقی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم، خاص طور پر بچوں اور خواتین پر کیے جانے والے حملے، ناقابل بیان ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے فلسطین کو تسلیم کیا۔ انہوں نے 1967 کی سرحدوں کے تحت ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرایا اور قطر پر اسرائیلی حملے کو علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا۔

کشمیر کا مسئلہ: ایٹمی فلیش پوائنٹ

وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک خطرناک فلیش پوائنٹ ہے۔ "ہم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اور وہ دن دور نہیں جب ان کو ان کا حق ملے گا،” انہوں نے واضح کیا۔

بھارت کی آبی دہشتگردی کی مذمت

وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے پر بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا دار و مدار ہے، اور پاکستان اپنے حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا۔

افغانستان اور خطے میں امن

بلوچستان میں بدامنی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں، جیسے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ، کو ملنے والی پناہ اور حمایت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے جعفر ایکسپریس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان ایک پرامن افغانستان کا خواہاں ہے۔

شہداء کو خراج تحسین

اپنی تقریر کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کے ورثاء، خصوصاً شہداء کی مائیں، ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button