اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے بجلی کے شعبے میں 1225 ارب روپے کے گردشی قرض سے متعلق تاریخی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، جسے مالیاتی نظم و ضبط کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم پاکستان کی قیادت میں قائم ٹاسک فورس نے توانائی کے شعبے میں موجود طویل عرصے سے درپیش چیلنج پر قابو پاتے ہوئے یہ اہم سنگِ میل عبور کیا ہے۔ معاہدے کی کامیابی وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق معاہدے کے تحت 660 ارب روپے کے پرانے قرضے ری اسٹرکچر کیے گئے ہیں، جبکہ 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ کی جائے گی۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس معاہدے سے صارفین پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، کیونکہ ادائیگیاں پہلے سے لاگو 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ سرچارج کے ذریعے کی جائیں گی۔
معاہدے کو توانائی کے شعبے میں پائیدار مالی اصلاحات کی طرف ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے وزارتِ خزانہ نے اُمید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے بجلی کی ترسیل اور پیداوار میں بہتری آئے گی اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔





