لندن: برطانوی حکومت، ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو ملک بدر کرنے پر غور کر رہی ہے جسے حال ہی میں جنسی جرائم کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق، 14 سالہ لڑکی اور ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی سمیت پانچ مختلف جرائم میں ملوث پائے جانے والے ملزم "کباتو” کو عدالت نے سزا سنائی۔ کباتو چند روز قبل چھوٹی کشتی کے ذریعے غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہوا تھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ کباتو نے قید کاٹنے کے بجائے ملک بدر ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ عوامی سطح پر اس فیصلے کے خلاف شدید احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے ہوم آفس کی جانب سے اب کباتو کی ملک بدری کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
تاہم، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کباتو پر سنگین الزامات ہیں، پھر بھی وہ یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کے تحت ملک بدری کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانوی حکام اس معاملے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں اور آیا کباتو کو جیل میں قید رکھا جائے گا یا واپس ایتھوپیا بھیج دیا جائے گا۔






