اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

جولائی میں بجلی کا جھٹکا صرف صارفین کو نہیں، حکومت کو بھی لگا – 87 ارب کا نقصان

رواں مالی سال کے پہلے ماہ (جولائی 2025) کے دوران سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو 87 ارب روپے کے بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

نقصانات کی تفصیل:

ڈسکوز کی نااہلی (ٹیکنیکل و کمرشل نقصانات): 41 ارب روپے

بجلی بلوں کی عدم وصولی (ریکوری شارٹ فال): 46 ارب روپے

گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتری:

حکام کے مطابق گزشتہ سال جولائی 2024 میں ڈسکوز کے مجموعی نقصانات 147 ارب روپے تھے، جس کے مقابلے میں رواں سال 60 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

تاہم، نقصان بدستور جاری:

اگرچہ سالانہ بنیادوں پر بہتری دکھائی دے رہی ہے، لیکن بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات تاحال قومی خزانے پر بھاری بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ جولائی 2025 میں بھی ڈسکوز کی نااہلی اور بلوں کی وصولی میں ناکامی کے باعث اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

ماہرین کی رائے:

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ:

"ڈسکوز کی کارکردگی میں بہتری کے بغیر ملک کی توانائی معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ نظام میں بہتری، بجلی چوری کی روک تھام اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ ضروری ہے۔”

پس منظر:

پاکستان میں بجلی کی ترسیل اور وصولی کا نظام عرصے سے ناقص کارکردگی کا شکار رہا ہے۔ ہر سال اربوں روپے کے نقصانات سرکاری خزانے پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں، جس کا بالآخر بوجھ صارفین پر پڑتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button