لندن / کابل / واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بگرام ایئر بیس امریکا کو فوری طور پر واپس کیا جائے، ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے دورے کے دوران برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"ہم افغانستان سے بگرام ایئر بیس واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں، اگر میری بات نہ مانی گئی تو اس کے ساتھ بہت برا ہوگا، دیکھنا میں کیا کر سکتا ہوں۔”
افغانستان کا دو ٹوک ردِ عمل
امریکی صدر کے اس بیان پر افغان حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
"ہم افغان سرزمین پر امریکی افواج کی واپسی کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ بگرام ایئر بیس افغانستان کا حصہ ہے اور اس پر کسی قسم کا بیرونی قبضہ ناقابل قبول ہے۔”
افغان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی نہ صرف ناقابل عمل ہے بلکہ یہ ملکی خودمختاری کے منافی ہے۔
بگرام ایئر بیس کا پس منظر
بگرام ایئر بیس افغانستان میں امریکی افواج کا ایک اہم عسکری مرکز رہا ہے، جسے امریکا نے 2001 میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران استعمال کیا۔ 2021 میں امریکی انخلا کے بعد یہ بیس مکمل طور پر افغان حکومت کے کنٹرول میں آ گیا تھا۔
صدر ٹرمپ ماضی میں بھی بارہا اس بیس کی واپسی کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم اب ان کے لہجے میں شدت اور دھمکی آمیز انداز نے دونوں ممالک کے تعلقات میں نیا تناؤ پیدا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی برادری کی نظر میں
ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان نہ صرف افغانستان بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی تشویش ناک اشارہ ہے۔ اس بیان سے امریکا اور افغانستان کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ علاقائی ممالک اس صورتِ حال کو قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔






