لندن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے سرکاری دورے پر برطانیہ پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی ملاقاتیں برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوئم اور نو منتخب وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے شیڈول ہیں۔ صدر ٹرمپ کے ہمراہ فرسٹ لیڈی میلانیا ٹرمپ بھی موجود ہیں۔
برطانیہ آمد پر وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔ امریکی صدر اور ان کی اہلیہ ریجنٹس پارک میں واقع وِن فیلڈ ہاؤس — امریکی سفیر کی سرکاری رہائش گاہ — میں قیام پذیر ہوں گے۔
ونڈسر کیسل میں شاہی ضیافت اور خیرمقدمی تقریب
صدر ٹرمپ کے اعزاز میں بدھ کے روز ونڈسر کیسل میں ایک سرکاری استقبالیہ اور عشائیہ کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں شاہی خاندان اور اہم حکومتی شخصیات شرکت کریں گی۔
میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا:
"میرا تعلق برطانیہ کے ساتھ ہمیشہ سے مضبوط رہا ہے۔ بادشاہ چارلس میرے دوست ہیں، اور یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے دوبارہ یہ موقع ملا۔”
ہزاروں افراد کے احتجاج متوقع، لیکن کوئی عوامی شیڈول نہیں
صدر ٹرمپ کے اس دورے کے دوران برطانیہ بھر میں ہزاروں افراد کے احتجاج متوقع ہیں، تاہم صدر کے لیے کوئی عوامی ملاقات یا تقریر شیڈول نہیں کی گئی۔
تاریخی ٹیکنالوجی معاہدہ متوقع
اس دورے کے دوران امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ایک تاریخی ٹیکنالوجی معاہدے پر دستخط متوقع ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے کھربوں ڈالر مالیت کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی وفد میں معروف ٹیکنالوجی اداروں کے سربراہان بھی شامل ہیں، جن میں اینویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نمایاں ہیں۔
برطانوی معیشت میں امریکی سرمایہ کاری
برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی سرمایہ کاری کمپنی بلیک راک برطانیہ میں ڈیٹا سینٹرز پر 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہے، جو برطانیہ کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
تجارتی معاہدہ اور محصولات پر مذاکرات
یاد رہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے مئی 2025 میں پہلا دوطرفہ تجارتی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت واشنگٹن نے برطانوی اسٹیل اور ایلومینیم پر 25 فیصد محصولات ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم اس پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
صدر ٹرمپ جمعرات کے روز وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کریں گے، جہاں توقع ہے کہ برطانوی اسٹیل پر محصولات میں ریلیف کا باقاعدہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔






