نئی دہلی — بھارت میں آپریشن سندور کی شدید شکست کے بعد فوجی جرنیلوں کا کردار مشکوک ہو گیا ہے، جہاں عسکری قیادت کو جنگی حکمت عملی کی بجائے مودی سرکار کی سیاسی پروپیگنڈا مشین کا حصہ بن کر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارتی جنرل منوج کٹیار نے حال ہی میں آپریشن سندور کی ناکامی کو ’’اسٹریٹیجک تیاری‘‘ قرار دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اس آپریشن میں بھارت کو واضح شکست دی ہے۔ جنرل کٹیار کے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارتی فوج کی عسکری قیادت اب جنگ کی بجائے سیاسی بیانیے کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں فوجی وقار مودی سرکار کی سیاست میں دب گیا ہے اور جنرلز عسکری نہیں بلکہ سیاسی ترجمان بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کا فوکس اب محض جنگ نہیں، بلکہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی جھوٹی کہانیوں کا دفاع کرنا ہے، جو بھارت کی عسکری اور سیاسی ساکھ دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی جانب سے اسے ’’اسٹریٹیجک تیاری‘‘ کہنا ایک سیاسی حربہ ہے تاکہ عوام کی توجہ شکست سے ہٹائی جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واضح ہے کہ بھارتی فوج کی اصل تیاری اور طاقت کو کمزور کیا جا رہا ہے، اور فوج کی ساکھ کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔
نتیجتاً، بھارتی فوج کے جنرلز اب سپاہی نہیں بلکہ سیاسی وزیروں کے ترجمان لگتے ہیں، جو فوج کی اصل ذمہ داریوں سے ہٹ کر مودی حکومت کے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال بھارت کی عسکری طاقت اور اس کی عالمی ساکھ کے لیے ایک تشویشناک انتباہ ہے۔






