لندن: برطانیہ کی نومنتخب وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پاکستان سمیت متعدد ممالک کو ویزہ پابندیوں کی وارننگ دے دی ہے، جس سے برطانیہ اور متاثرہ ممالک کے درمیان تعلقات پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، شبانہ محمود کا کہنا تھا کہ برطانیہ ایسے ممالک کے شہریوں کو ویزے دینا معطل کر سکتا ہے جو اپنے غیر قانونی شہریوں کی واپسی میں تعاون نہیں کرتے۔
انہوں نے خبردار کیا:
"اگر آپ کا کوئی شہری ہمارے ملک میں رہنے کا قانونی حق نہیں رکھتا، تو اسے واپس لینا ہوگا۔ قوانین پر عمل کریں، ورنہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔”
پاکستان بھی فہرست میں شامل
رپورٹ کے مطابق، جن ممالک کو غیر تعاون یافتہ تصور کیا جا رہا ہے یا ماضی میں اس فہرست میں شامل کیا گیا، ان میں شامل ہیں:
پاکستان
بھارت
ایران
عراق
بنگلہ دیش
گیمبیا
نائیجریا
یہ بیان شبانہ محمود کی پہلی بین الاقوامی مصروفیت کے دوران سامنے آیا ہے اور اسے ان کی مستقبل کی سخت امیگریشن پالیسیوں کا اشارہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
پناہ گزینوں کا غلط استعمال، انٹیلیجنس نیٹ ورک سرگرم
برطانوی وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ان افراد پر کڑی نظر رکھ رہے ہیں جو کام یا تعلیم کے ویزوں کو بنیاد بنا کر برطانیہ پہنچتے ہیں اور بعد ازاں پناہ کی درخواستیں دائر کر دیتے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق:
"ایسے کیسز کی روک تھام کے لیے انٹیلیجنس جمع کی جا رہی ہے تاکہ ویزہ سسٹم کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔”
پس منظر
برطانیہ میں غیر قانونی مہاجرین اور پناہ گزینوں کے مسئلے پر سخت موقف اختیار کرنے والے وزراء کی ایک تاریخ رہی ہے، تاہم شبانہ محمود کے حالیہ بیان کو اس لیے بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ وہ خود ایک پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان ہیں، اور ان کا یہ موقف نئی حکومت کی امیگریشن پالیسی کی سختی کا عندیہ دے رہا ہے۔






