اسلام آباد – یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کی انتظامیہ نے یکم ستمبر 2025ء سے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کا باضابطہ سرکلر جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ملک بھر میں کارپوریشن کے 11 ہزار 406 ملازمین کی ملازمتیں ختم کر دی جائیں گی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق حکومت نے ملازمین کے لیے 19 ارب 50 کروڑ 40 لاکھ روپے کا مالی پیکج منظور کیا ہے، جو ملازمین کی سروس کی مدت اور نوعیت کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
پیکج کی تفصیلات
مستقل ملازمین
کل تعداد: 5,229
مختص رقم: 13 ارب 18 کروڑ 30 لاکھ روپے
2 سال یا کم سروس: باقی مہینوں کی مکمل تنخواہ
20 سال تک سروس: مکمل برسوں کی 3 جاری بنیادی تنخواہیں یا باقی مہینوں کی 1.25 تنخواہ
20 سال سے زائد سروس: مکمل برسوں کی 2 جاری بنیادی تنخواہیں
کنٹریکٹ ملازمین
کل تعداد: 3,323
مختص رقم: 3 ارب 60 کروڑ 20 لاکھ روپے
2 سال یا کم سروس: باقی مہینوں کی بنیادی تنخواہ
16 سال تک سروس: 30 بنیادی تنخواہیں
16 سال سے زائد سروس: 35 بنیادی تنخواہیں
ڈیلی ویجز ملازمین
کل تعداد: 2,854
مختص رقم: 2 ارب 71 کروڑ 90 لاکھ روپے
2 سال یا کم سروس: باقی مہینوں کی تنخواہ (37,000 روپے فی مہینہ)
10 سال تک سروس: 15 تنخواہیں (37 ہزار روپے فی تنخواہ)
10 سے 15 سال سروس: 28 تنخواہیں
15 سال سے زائد سروس: 30 تنخواہیں
پہلے فارغ کیے گئے ملازمین بھی مستحق
سرکلر کے مطابق، تنظیم نو پلان کے تحت ماضی میں فارغ کیے گئے کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو بھی اس مالی پیکج سے فائدہ حاصل ہوگا، بشرطیکہ وہ اہل قرار پائیں۔
ملازمین میں بے چینی، حکومت سے وضاحت کا مطالبہ
ملازمین کی تنظیموں نے حکومت سے فوری طور پر اس فیصلے پر وضاحت دینے اور روزگار کے متبادل مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلے ہی بیروزگاری کی شرح بلند ہے، ایسے میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار ختم کرنا معاشی بدحالی کو مزید بڑھا دے گا۔






