اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

اسلام آباد:
ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز کے درمیان وفاقی حکومت کے قرضے اور واجبات پاکستان کی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2025 کے اختتام تک وفاقی حکومت کے قرضوں میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق:

جون 2025 تک وفاقی حکومت کا کل قرضہ 77,888 ارب روپے ہو گیا ہے۔

گزشتہ سال جون 2024 میں یہ قرضہ 68,914 ارب روپے تھا۔

اس لحاظ سے ایک سال کے دوران قرض میں 8,974 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

داخلی اور بیرونی قرضوں کی تفصیل:

مقامی (داخلی) قرض:
وفاقی حکومت کا مقامی قرض 15.5 فیصد اضافے کے بعد 54,471 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

بیرونی قرض:
وفاقی حکومت کا بیرونی قرض 7.6 فیصد اضافے کے بعد 23,417 ارب روپے ہو گیا ہے۔

معاشی ماہرین کا ردعمل

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قرضوں میں مسلسل اضافے کی بڑی وجوہات میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، روپے کی قدر میں کمی، بلند سودی شرح اور مالیاتی خسارہ شامل ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قرضوں کے اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے حکومت کو ٹیکس نیٹ میں اضافہ، کفایت شعاری، اور برآمدات میں بہتری جیسے دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔

خلاصہ:
قرض کی قسم جون 2024 (ارب روپے) جون 2025 (ارب روپے) اضافہ (%)
کل قرض 68,914 77,888 13%
مقامی قرض — 54,471 15.5%
بیرونی قرض — 23,417 7.6%
نوٹ:

مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں وزارتِ خزانہ کی رپورٹ سے بھی متوقع ہیں، جس سے قرضوں کی نوعیت، سود کی ادائیگیوں، اور ممکنہ اصلاحاتی اقدامات کی معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button