اہم خبریںدنیا

غزہ جانے والی امدادی کشتی پر مبینہ ڈرون حملہ، بڑی انسانی حقوق مہم نشانے پر

غزہ: فلسطینی عوام کے لیے امداد لے جانے والے عالمی فلوٹیلا قافلے کی ایک کشتی پر شمالی افریقہ کے ساحلی علاقے میں مبینہ طور پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کشتی میں آگ بھڑک اٹھی۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اطلاعات کے مطابق، نشانہ بنائی گئی کشتی پرتگالی پرچم بردار تھی، جس میں 350 سے زائد انسانی حقوق کے کارکن اور رضاکار سوار تھے۔ ان میں معروف ماحولیاتی اور انسانی حقوق کی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔ حملہ مبینہ طور پر فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی مرکزی کشتی پر کیا گیا، جس میں اسٹیئرنگ کمیٹی کے اراکین موجود تھے۔

فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے حملے کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ:

"یہ حملہ ہماری پرامن جدوجہد کو روکنے کی ایک اور کوشش ہے، لیکن ہم فلسطینی عوام تک امداد پہنچانے کا مشن جاری رکھیں گے۔”

تیسری اور سب سے بڑی امدادی کوشش

یاد رہے کہ یہ فلوٹیلا قافلہ 31 اگست کو اسپین کے شہر بارسلونا سے غزہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ امدادی سامان سے لدی کشتیوں کا یہ قافلہ سمندری راستے سے غزہ تک امداد پہنچانے کی تیسری اور اب تک کی سب سے بڑی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے مطابق، حملے کے وقت کشتی غزہ کے ساحل سے تقریباً 70 ناٹیکل میل کے فاصلے پر تھی۔ تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ بین الاقوامی پانیوں میں کیا گیا۔

پچھلے واقعات کا پس منظر

یہ پہلا موقع نہیں جب امدادی مشن کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ جولائی 2025 میں اسرائیلی فوج نے اٹلی سے غزہ جانے والی امدادی کشتی حنظلہ پر حملہ کر کے اُسے اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جس پر بھی عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

ادارتی نوٹ: اس واقعے پر عالمی برادری کی جانب سے ردعمل کا انتظار ہے، جبکہ فلوٹیلا میں شامل تنظیموں نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button