بیجنگ (ویب ڈیسک):
چین کے صدر شی جن پنگ نے بیجنگ کے تاریخی تیانمن اسکوائر پر منعقدہ ملک کی سب سے بڑی فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو ایک واضح اور پرزور پیغام دیا ہے کہ چینی فوج ایک قابلِ بھروسہ اور مضبوط طاقت ہے جسے نہ تو ڈرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی دھمکایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگرچہ چین ایک طاقتور ملک ہے، لیکن یہ توسیع پسندی یا جارحیت کی پالیسی اپنانے کا خواہاں نہیں۔
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین ایک ایسا عالمی نظام چاہتا ہے جو انصاف، مساوات اور عالمی امن پر مبنی ہو۔ ان کے الفاظ میں، "آج انسانیت کو ایک نہایت اہم انتخاب کا سامنا ہے کہ وہ جنگ کا راستہ اپنائے یا امن کی راہ پر گامزن رہے۔ چینی عوام تاریخ کے درست رخ پر کھڑے ہیں اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے پُرعزم ہیں۔”
جنگ یا امن: انسانیت کا فیصلہ
شی جن پنگ نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چین اپنے ماضی کی مصیبتوں کو کسی دوسرے ملک پر تھوپنے کا خواہاں نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک پرامن، خودمختار اور عالمی ترقی میں شریک ملک کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانا چاہتا ہے۔
عالمی استحکام میں چینی فوج کا کردار
صدر نے مزید کہا کہ چینی فوج نہ صرف ملک کے قومی مفادات کا تحفظ کرے گی بلکہ عالمی استحکام اور امن کے قیام میں بھی ایک اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ تاریخ کی تلخیاں دوبارہ دہرانے سے گریز کرے۔
80 ویں یومِ فتح پر شاندار فوجی پریڈ
یہ تاریخی خطاب چین کی جاپان پر فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ فوجی پریڈ کے دوران دیا گیا۔ اس موقع پر چین کی فوج نے اپنی جدید ترین عسکری صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا، جس میں شامل تھے:
ہائپرسونک میزائلز، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید ڈرونز اور آبدوزیں
جدید ٹینکس اور دیگر جدید اسلحہ
جے-10 سی جنگی طیارے، اسٹریٹجک بمبارز اور دیگر فضائی مشینری کا فلائی پاسٹ
پریڈ کی ابتدا ایک منٹ کی خاموشی سے ہوئی، جس کے بعد صدر شی جن پنگ نے فوجی دستوں کا معائنہ کیا۔ اس تقریب میں کئی بین الاقوامی مہمانانِ خصوصی بھی شریک تھے۔






