واشنگٹن / کیریبئن (ویب ڈیسک)
امریکی فوج نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کیریبئن سمندر میں وینزویلا سے نکلنے والے منشیات سے لدے جہاز کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ کارروائی حال ہی میں تعینات کیے گئے امریکی بحری بیڑے کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔
امریکی صدر کی تصدیق
امریکی صدر نے اس آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "یہ جہاز منشیات سے بھرا ہوا تھا اور اسے امریکہ سمیت خطے کے دیگر ممالک میں اسمگل کیا جا رہا تھا۔ کارروائی کے دوران تمام قانونی اور عسکری ضوابط کا مکمل خیال رکھا گیا۔”
منشیات فروشوں کے خلاف اعلانِ جنگ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس کارروائی کو امریکی پالیسی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا:
"وینزویلا سے منشیات کی اسمگلنگ صرف امریکہ نہیں بلکہ پورے لاطینی امریکہ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ہم منشیات فروشوں، جرائم پیشہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھیں گے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ نے منظم جرائم، اسمگلنگ اور غیر قانونی نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کا اختیار واضح طور پر دے دیا ہے۔
سفارتی تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پہلے ہی دونوں ممالک کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں، اور اس قسم کی کارروائیاں سفارتی تنازعات کو مزید ہوا دے سکتی ہیں۔
وینزویلا کی حکومت کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ معاملہ اقوامِ متحدہ یا علاقائی فورمز پر اٹھایا جا سکتا ہے۔
خطے میں امریکی عسکری موجودگی
یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکہ نے حال ہی میں کیریبئن خطے میں بحری بیڑا تعینات کیا ہے، جس کا مقصد منشیات اسمگلنگ اور بحری سیکیورٹی کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔ واشنگٹن حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی مکمل طور پر بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے کی گئی ہے۔
▪️ ممکنہ اثرات
وینزویلا میں عوامی ردعمل کا امکان
علاقائی ممالک میں امریکہ کے خلاف مظاہرے






