اہم خبریںتازہ ترین

پنجاب کو سیلاب کا سنگین خطرہ، اگلے 24 گھنٹے فیصلہ کن قرار

لاہور: پنجاب میں سیلابی صورتحال نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے (پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی)، عرفان علی کاٹھیا نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور آئندہ 24 گھنٹے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے لاہور میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ:

"یکم ستمبر کو سات لاکھ کیوسک پانی ہیڈ تریموں پر پہنچے گا، جبکہ راوی اور چناب کا پانی ہیڈ شیر شاہ اور ہیڈ سلیمانی میں داخل ہو چکا ہے۔ چار ستمبر کو یہ پانی ہیڈ پنجند میں داخل ہو گا۔”

2200 دیہات زیر آب، 33 افراد جاں بحق

سیلاب کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک پنجاب کے 2200 سے زائد دیہات متاثر ہو چکے ہیں، اور 33 افراد اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق، مون سون کے نویں اسپیل نے خاص طور پر جنوبی پنجاب میں شدید تباہی مچائی ہے۔

20 لاکھ افراد متاثر، امدادی سرگرمیاں جاری

ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو کارروائیوں میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ تقریباً 20 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جنہیں خوراک، پناہ گاہ، اور طبی سہولیات کی فراہمی جاری ہے۔

ڈی جی کے مطابق:

متاثرہ علاقوں سے مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر انسانی جانوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے

ضلعی انتظامیہ دریاؤں کے کنارے مسلسل نگرانی کر رہی ہے

ستلج میں کمی، لیکن خطرہ باقی ہے

ڈی جی کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں معمولی کمی آئی ہے، مگر خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں:

ہیڈ سلیمانی پر پانی کا بہاؤ: 1 لاکھ 54 ہزار کیوسک

بہاولپور کے قریب دریائی بہاؤ: 1 لاکھ کیوسک

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر آئندہ 6 سے 7 روز میں بارشوں کا سلسلہ تھم گیا اور پانی کی سطح میں کمی آئی، تو متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل تیز کیا جا سکے گا۔

حکام کا الرٹ، عوام سے احتیاط کی اپیل

پی ڈی ایم اے اور دیگر ادارے ہنگامی بنیادوں پر سرگرم ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں کے قریب نہ جائیں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button