لاہور (اسٹاف رپورٹر) – پنجاب بھر میں مون سون بارشوں کے باعث دریائے چناب، ستلج اور راوی میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں دیہات زیرِ آب آ گئے اور ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اب تک 17 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ زرعی زمینوں اور انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
لاہور میں شہری علاقے متاثر، راوی میں اونچے درجے کا سیلاب
لاہور کے مختلف علاقوں میں راوی کا پانی داخل ہو گیا ہے، جہاں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں:
فرخ آباد
عزیز کالونی
امین پارک
افغان کالونی
شفیق آباد
مریدوالا
بادامی باغ
چوہنگ
کے رہائشی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو بھی خالی کرایا گیا ہے۔
نارنگ منڈی اور نارووال: زمینی رابطے منقطع، فصلیں تباہ
دریائے راوی کی طغیانی نے نارنگ منڈی میں ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ کئی دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ نارووال میں درجنوں دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں اور شکرگڑھ-نارووال روڈ بند ہو گئی ہے۔ قلعہ احمد آباد میں ریلوے ٹریک متاثر ہونے کے باعث ٹرین سروس بھی معطل ہے۔
چنیوٹ: حفاظتی بند ٹوٹ گیا، 100 سے زائد دیہات متاثر
تحصیل لالیاں کے علاقے موضع کلری میں حفاظتی بند ٹوٹنے کے باعث 100 سے زائد دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 8 لاکھ 5300 کیوسک سے زائد پانی کا ریلا علاقے سے گزر رہا ہے، جس کے پیشِ نظر ہزاروں افراد نے نقل مکانی کر کے محفوظ مقامات کا رخ کر لیا ہے۔
ساہیوال: بند میں شگاف، صورتحال نازک
ساہیوال کے علاقے اورنگ آباد میں بند میں شگاف پڑنے کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی اپیل
ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ:
ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں
ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر 1122 پر رابطہ کریں
محفوظ مقامات پر منتقل ہونے میں تاخیر نہ کریں
ریلیف آپریشن جاری، ہنگامی مراکز قائم
ریسکیو ادارے اور مقامی انتظامیہ ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں ہنگامی مراکز قائم کر دیے گئے ہیں جہاں متاثرہ افراد کو خوراک، رہائش اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔






