سری نگر (عالمی نیوز ڈیسک) — مقبوضہ کشمیر میں پچاس سال کے بعد ہونے والی ریکارڈ توڑ بارشوں نے وادی کو شدید تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں 360 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے دریاؤں کے بند ٹوٹ گئے، درجنوں پل اور سڑکیں بہہ گئیں اور مواصلاتی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو گیا۔
انتظامیہ کے مطابق بارشوں، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک 30 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ جموں، ڈوڈا اور دیگر متاثرہ علاقوں میں مجموعی ہلاکتیں 37 تک پہنچ گئی ہیں۔ دریاۓ جہلم میں پانی کی سطح خطرناک حد سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث وادی میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
رابطے منقطع، امدادی کارروائیاں متاثر
شدید بارشوں کے باعث وادی بھر میں موبائل نیٹ ورک، براڈبینڈ اور لینڈ لائن سروسز مکمل طور پر معطل ہو چکی ہیں، جس سے نہ صرف شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ امدادی کارروائیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ کئی علاقوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں خوراک اور طبی امداد کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔
تعلیمی ادارے بند، مزید بارشوں کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے آج بھی بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ہماچل پردیش اور پنجاب بھی متاثر
بھارت کے شمالی علاقوں ہماچل پردیش اور پنجاب میں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ منالی اور پٹھان کوٹ میں دریا طغیانی کا شکار ہو چکے ہیں، جس کے باعث کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں اور درجنوں گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں۔
عوام سے احتیاط کی اپیل
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور مقامی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت ایمرجنسی نافذ ہے، جبکہ فوج اور نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس ٹیموں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔





