کرتارپور (27 اگست 2025) — کرتارپور کے قریب دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے کے باعث پانی گردوارے میں داخل ہو گیا، جس کے تیز بہاؤ کی وجہ سے نارووال شکرگڑھ روڈ ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
مقامی انتظامیہ اور پاک فوج نے مل کر سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے دو سو سے تین سو افراد کی ریسکیو اور ریلیف کا کام شروع کر دیا ہے۔ پاک فوج نے فوری طور پر متاثرہ افراد کو نکالنے کے لیے آپریشنز کا آغاز کیا ہے۔
بھارتی آبی جارحیت کے باعث دریائے راوی میں شکرگڑھ کے کوٹ نیناں کے مقام پر دو لاکھ 50 ہزار کیوسک سے زائد ریلہ گزر رہا ہے، جس سے بھیکو چک کے قریب حفاظتی بند میں شگاف پڑ گیا ہے۔ اس حادثے کے نتیجے میں بھیکو چک، نوشہرہ، نوگزہ، کرتارپور، مین شاہراہ منڈی خیل اور بھجنہ کے علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔
سیلاب کے باعث نارووال شکرگڑھ روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کا حادثہ نہ ہو۔
بارشوں کے باعث دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 7 لاکھ 69 ہزار کیوسک اور اخراج 7 لاکھ 62 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خانکی میں پانی کا بہاؤ 7 لاکھ 5 ہزار کیوسک ہے جبکہ دریائے راوی میں جسڑ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 72 ہزار کیوسک ہے۔
بلوکی ہیڈورکس پر پانی کی آمد 79 ہزار اور اخراج 67 ہزار کیوسک ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک اور سلیمانکی میں 1 لاکھ کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔






