پیرس: فرانس کے وزیراعظم فرانسوا بیرو نے اعلان کیا ہے کہ وہ 8 ستمبر کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ طلب کریں گے، جو ان کی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان ثابت ہوگا۔ یہ قدم ملک میں مالیاتی اصلاحات اور بڑھتے ہوئے عوامی قرضے کے بحران کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، جس سے فرانس کی اقتصادی پالیسیوں کو مضبوطی ملے گی۔
وزیراعظم بیرو نے پیرس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سالانہ 44 ارب یورو کی بچت کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے تاکہ مالی خسارے کو کم کیا جا سکے اور یورپی یونین کی مالیاتی شرائط کے مطابق چلنے کی راہ ہموار ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا غیر معمولی اجلاس بلانے کی منظوری صدر سے حاصل کر لی گئی ہے تاکہ اصلاحاتی اقدامات کو قانونی شکل دی جا سکے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے حکومت کا ساتھ دیں تاکہ سخت معاشی فیصلے کامیابی سے نافذ ہو سکیں۔
سیاسی مخالفت کے باوجود، بیرو کی حکومت نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اعتماد کا ووٹ ملک کے بہتر مستقبل کی جانب ایک مثبت قدم ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اگر حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیتی ہے تو یہ فرانس کے لیے معاشی استحکام اور یورپی یونین کے مالیاتی معیار کی تکمیل کا موقع ہوگا، جبکہ اس سے ملک میں سیاسی استحکام بھی بڑھے گا۔
یورپی یونین کی طرف سے بھی فرانس پر مالیاتی نظم و ضبط کی پابندی کے حوالے سے زور دیا جا رہا ہے، جس کے باعث وزیراعظم بیرو کی کوششیں ملک کی مالی صحت کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گی۔






