کے پی حکومت کا وفاق پر سخت ردعمل: سیلاب کے دوران حکومتی غفلت پر مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کا کڑا بیان
ایبٹ آباد — خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات ڈاکٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے ملک میں جاری شدید سیلابی صورتحال پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "خود کو سب کی ماں کہنے والی شخصیت اس وقت جاپان میں سیر و تفریح میں مصروف ہے، جبکہ ملک تباہ کن بحران سے گزر رہا ہے۔”
سیلاب کی شدت اور وفاقی غفلت
بیرسٹر سیف نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاری صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں بلکہ پنجاب اور سندھ سمیت پورے ملک کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا:
"سیلاب سب سے زیادہ وسائل رکھنے والے صوبے پنجاب کی طرف بڑھ رہا ہے، کراچی بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے، لیکن وفاقی حکومت غفلت کی نیند سو رہی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیکڑوں انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، اور کئی اہم سڑکیں، پل اور عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ وفاقی حکومت کو ذمہ داری خود اٹھانی ہوگی، اور مدد کے لیے انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
خیبر پختونخوا کا خود کفیل موقف
مشیر اطلاعات نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کر رہی ہے اور وفاق سے مالی امداد کی توقع نہیں رکھتی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیلاب ایک قومی مسئلہ ہے جس میں وفاقی حکومت کی موجودگی اور تعاون ناگزیر ہے۔
صوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع اور دعوت
بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت بین الاقوامی سرمایہ کاری کو بڑھاوا دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا:
"ہمارا مقصد ہے کہ یہاں تجارت، مائننگ، صنعت اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کیے جائیں۔ ہم سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ اور معاونت فراہم کریں گے۔”
اختتامیہ
سیلاب کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کی فوری اور مؤثر اقدامات کی تعریف کی جارہی ہے، جبکہ وفاقی سطح پر غیر سنجیدگی پر عوام اور سیاسی حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ اس کڑے بیانیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران کی اس گھڑی میں ملک کو متحد اور سنجیدہ حکومتی رویے کی اشد ضرورت ہے۔






