واشنگٹن (خصوصی رپورٹ):
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات اور جنگ بندی کے لیے نئی مہلت دے دی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پیوٹن کو چند ہفتوں کا وقت دیا جا رہا ہے تاکہ وہ زیلنسکی سے براہِ راست بات چیت کر سکیں اور جنگ کے خاتمے کے امکانات پر غور کریں۔
ٹرمپ نے مزید کہا، "ہم دیکھیں گے کہ قصور کس کا ہے۔ میں نے انہیں ملاقات کرنے کا کہا ہے، اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ ملاقات کرتے ہیں یا نہیں۔ آئندہ دو ہفتوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔”
روسی ردعمل اور سخت شرائط
دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے فوری ملاقات کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پیوٹن اور زیلنسکی کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی۔ ذرائع کے مطابق، پیوٹن نے جنگ بندی کے لیے سخت شرائط عائد کی ہیں جن میں یوکرین کا مشرقی شہر ڈونباس سے دستبردار ہونا، نیٹو میں شمولیت کا ارادہ ترک کرنا، اور مشرقی سرحد سے نیٹو افواج کا انخلا شامل ہے۔
روسی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مطالبات کے بدلے روس کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہے۔
تجزیہ اور مستقبل کے امکانات
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پیشکش نے سفارتی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے، مگر روس کی سخت شرائط کی وجہ سے فوری جنگ بندی کے امکانات فی الحال کم نظر آتے ہیں۔ آئندہ چند ہفتوں میں صورتحال مزید واضح ہو گی اور اسی دوران ممکن ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہو۔






